یہ منافق شخص کی نماز ہے

حضرت ابوسعید ؓ سے ظہر کے متعلق بخاری کی روایت میں ہے :’’ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ کی وجہ سے ہے ، جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا ، میرے رب ! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس ، ایک سانس موسم سرما میں اور ایک سانس موسم گرما میں ، لینے کی اجازت فرمائی ، تم جو زیادہ گرمی اور زیادہ سردی پاتے ہو وہ اسی وجہ سے ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔\n اور بخاری کی روایت میں ہے ،’’ پس تم جو گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ اس کی گرم ہوا کی وجہ سے ہے ، اور تم جو زیادہ سردی پاتے ہو تو وہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہے ۔‘‘\n
مشکوۃالمصابیح حدیث: 591 عربی حدیث: 591

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ عصر پڑھا کرتے تھے جبکہ سورج بلند چمک دار ہوتا تھا ، جانے والا شخص (نماز عصر مسجد نبوی میں ادا کرنے کے بعد)’’ عوالی ‘‘ (مدینہ کی ملحقہ بستیوں میں) جاتا تو سورج بلند ہوتا ، اور بعض بستیاں مدینہ سے تقریباً چار میل کی مسافت پر تھیں ۔ متفق علیہ ۔
مشکوۃالمصابیح حدیث: 592 عربی حدیث:

احضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ منافق شخص کی نماز ہے جو بیٹھ کر سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب وہ زرد اور شیطان کے سینگوں کے مابین پہنچنے کے قریب ہو جاتا ہے تو وہ کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور ان میں اللہ تعالیٰ کا بہت کم ذکر کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
مشکوۃالمصابیح حدیث: 593 عربی حدیث: 593

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top