
اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی گنگناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وہ قریب ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”دن رات میں پانچ وقت کی نماز“، اس نے کہا: اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں میرے اوپر؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل ( سنت ) پڑھنا چاہو“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے روزے“، اس نے کہا: میرے اوپر اس کے علاوہ کچھ اور بھی روزے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل ادا کرو“، اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا: میرے اوپر اس کے علاوہ بھی 5031 عربی حدیث: 5031

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کی راہ میں نکلتا ہے ( یعنی جہاد کے لیے ) اور اس کا یہ نکلنا صرف اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے اور اس کی راہ میں جہاد کے جذبے سے ہے ( تو اللہ نے ایسے شخص کی ) ضمانت اپنے ذمہ لے لی ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی طبعی موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا“۔
سنن نسائی حدیث: 5032 عربی حدیث: 5032

