انسان کو وسوسے کیوں آتے ہیں۔۔؟

آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عام رویہ اور معمول یہ تھا کہ (ضرورت پڑنے پر) خود ہی اپنی (ٹوٹی پاپوش) گانٹھ لیتے تھے اور خود ہی اپنا (پھٹا ہوا) کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے، جس طرح تم میں سے کوئی بھی آدمی گھر کا کام کرتا ہے ….. اور حضرت صدیقہؓ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ ﷺ (کوئی مافوق البشر غیر انسانی مخلوق نہیں تھے، بلکہ) بنی آدم ہی میں سے ایک آدمی تھے (معمولی سے معمولی کام بھی خود کر لیتے تھے)اپنے کپڑوں میں خود جوئیں دیکھتے تھے، بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے، اپنے ذاتی کام خود ہی کر لیتے تھے۔ (جامع ترمذی)

تشریح
اس حدیث اور رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ میں بڑا سبق ہے، ان حضرات کے لئے جو دین اور علم دین میں حضور ﷺ کے خواص نائبین و وارثین ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو اس کے اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔

انسان کو وسوسے کیوں آتے ہیں یہ ویڈیو دیکھیں

حمران کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب سے اسلام قبول کیا تھا، ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ نہایا کرتے تھے، ایک دن نماز کے لئے میں نے وضو کا پانی رکھا، جب وہ وضو کر چکے تو فرمانے لگے کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا تھا، پھر میں نے سوچا کہ نہ بیان کروں، یہ سن کر حکم بن ابی العاص نے کہا کہ امیر المؤمنین! بیان کر دیں، اگر خیر کی بات ہو گی تو ہم بھی اس پر عمل کر لیں گے اور اگر شر کی نشاندہی ہو گی، تو ہم بھی اس سے بچ جائیں گے، فرمایا: میں تم سے یہ حدیث بیان کرنے لگا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح وضو کیا اور فرمایا: ”جو شخص اس طرح وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور رکوع و سجود کو اچھی طرح مکمل کرے تو یہ وضو اگلی نماز تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، بشرطیکہ کسی گناہ کبیرہ کا ارتکا ب نہ کرے۔“
مسند احمد حدیث: 484 عربی حدیث:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top